ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور میں دوست کو بچانے کی کوشش میں دو دوستوں کے قتل کے بعد عوام نے کیا نیشنل ہائی وے بند کرکے احتجاج

کنداپور میں دوست کو بچانے کی کوشش میں دو دوستوں کے قتل کے بعد عوام نے کیا نیشنل ہائی وے بند کرکے احتجاج

Sun, 27 Jan 2019 23:51:43    S.O. News Service

کنداپور27 جنوری (ایس او نیوز) یہاں کوٹا میں سنیچرآدھی رات کو دو لوگوں کا قتل کرکے قاتل فرار ہونے پر عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ قاتلوں کا فوری پتہ لگاتے ہوئے اُنہیں گرفتار کیا جائے۔ آج اتوار شام قریب چار بجے مقامی لوگوں نے دونوں نعشوں کو اسپتال سے پوسٹ مارٹم کے بعد سیدھے کوٹا نیشنل ہائی وے پر لے کر آئے اور ہائی وے کے درمیان نعشوں کو رکھتے ہوئے روڈکو بلاک کردیا۔

خیال رہے کہ دونوں کی موت اُس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے ایک دوست کو بچانےاُس کے گھر پہنچے تھے، جس کے دوران حملہ آوروں نے دونوں پر تلواروں سے حملہ کرکے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

اطلاع کے مطابق سنیچر آدھی رات کو لوہت پجاری ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعداسکوٹر پر سوار ہوکر واپس اپنے گھر جارہا تھا تو اس نے محسوس کیا کہ ایک کار اور ایک بائک اس کا پیچھا کررہی ہے۔جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوا، پیچھا کرنے والی کار اور بائک اس کے گھر کے باہر آکر رُک گئی اور ہارن بجانے لگی، ڈر اور خوف کے مارے لوہت پجاری نے فوری اپنے ایک دوست بھارت کو فون کرکے اپنی مدد کرنے کیلئے بلایا، بھارت نے اپنے دوستوں یتیش، اُمیش، ناگراج، منیش، پرساد اور ششی کو ساتھ لے کر اس کے گھر پہنچا۔

لوہت پجاری کے گھر کے باہر جو لوگ کھڑے تھے، بھارت کو چھ لوگوں کے ساتھ دیکھتے ہی اُس پرتلوار لے کر ٹوٹ پڑے ، اچانک حملہ سے بے خبر بھارت پر حملہ کرتے ہی لوہت اور یتیش اُس کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھے، اس دوران حملہ آور نے یتیش کے سرپر تلوار سے حملہ کردیا، دیگر لوگ جب بچانے کے لئے آگے بڑھے تو حملہ آور فوراً وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

بھارت کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی، جبکہ اس کا دوست یتیش نے اسپتال لے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔

لوہت پجاری نے پولس کو بتایا کہ جس بائک کے ذریعے اُس کا پیچھا کیا جارہا تھا، اُس میں ایک اُس کا پڑوسی بھی تھا۔

بتایا گیا ہے کہ لوہت پجاری پر حملے کا سبب پڑوس کے رہنے والے ریڈی برادران کے گھر کے بیت الخلاء کی ٹنکی تعمیر کرنے کا تنازعہ تھا، جس کے بعد پتہ چلا کہ پڑوس میں رہنے والے ہریش ریڈی اور راج شیکھر ریڈی دونوں ہسٹری شیٹرس ہیں اور پہلے سے ان پر کئی معاملات درج ہیں۔

اتوار شام چار بجے جیسے ہی دونوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد گھروالوں کے حوالے کی گئی، مقامی لوگوں نے دونوں نعشوں کو کوٹا نیشنل ہائی وے66 کے درمیان رکھ کر احتجاج شروع کردیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کنداپور ڈی وائی ایس پی جئے شنکر پولس کے زائد عملہ کے ساتھ موقع واردات پر پہنچے اور احتجاجیوں کو سمجھانے بجھانے  کی کوشش کی، مگر احتجاجی اس بات پر آڑ گئے کہ جب تک ضلعی ایس پی موقع پر پہنچ کر اُن سے بات نہیں کریں گے وہ ہائی وے سے نہیں ہٹیں گے۔ ہائی وے پر بیٹھے احتجاجیوں نے انصاف کی مانگ کرنے کے لئے نعرے بازی بھی کی۔

خبر ملتے ہی اُڈپی ایس پی لکشمن نمبرگی جائے واردات پر پہنچے اور احتجاجیوں سے گفتگو کی،اس دوران احتجاجیوں نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ حملہ کرنے والے راوڑی شیٹر اور بدنام غنڈے اتنی آزادی کے ساتھ گھومتے ہیں اور کسی پر بھی حملہ کردیتے ہیں۔ احتجاجیوں نے ایس پی سے مطالبہ کیا کہ ایسے جتنے بھی غندہ عناصر اور راوڑی شیٹر ہیں اُنہیں تڑی پار کیا جائے اور  دو دوستوں کا قتل کرکے فرار ہونے والوں کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ ایس پی نے احتجاجیوں کو بتایا کہ قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لئے پولس کی چار ٹیمیں ترتیب دی گئی ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قاتلوں کو جلد ہی گرفتار کیا جائے گا۔ ایس پی کی یقین دھانی کے بعد احتجاجی احتجاج کو ختم کرکے نعشوں کو اپنے ساتھ لے گئے اور ضروری کاروائیوں کے بعد آنتم سنسکار کیا۔

اس سے قبل شائع رپورٹ:

دوست کی مدد کرنا پڑ گیا مہنگا؛ کنداپور میں دو دوستوں کو گنوانی پڑی جان


Share: